ایک مرئ ہوئ چڑیا
حامدا و مصليا أما بعد:
السلام عليكم و رحمت اللہ و برکاتہ
حضرات قارئین کرام!
حضرت عبداللہ ابن مبارک رحمت اللہ علیہ حج کے لئے نکلے ۔گھوڑے پر سوار تھے ۔ابھی اپنے شہر سے کچھ ہی دور پہنچے تھے ۔سڑک کے کنارے ایک لڑکی کو دیکھا، لڑکی گھورے پر سے ایک مری ہوئ چڑیا اٹھا کر، اپنے تھیلے میں ڈال رہی تھی ۔آپ نے گھوڑا روک لیا، نیچے اترے، لڑکی کے قریب پہنچے اور پوچھا ۔
""بیٹی اس مری ہوئے چڑیا کا کیا کروگی؟ ۔""
لڑکی یہ سن کر رونے لگی، پھر بولی :
""چچا جان ¡ہمارے باپ نہیں رہے، ظالم لوگوں نے انہیں مار ڈالا ہے۔ ہمارا سب مال چھین لیا ہے ۔
لڑکی آنسوں پونچھ کر پھر بولی :
""چچا جان ! اب میں ہوں اور میرا بھائ ہے ۔ہمارے پاس کھانے کو کچھ بھی نہیں ۔ کئ وقت کا فاقہ ہے ۔میں باہر نکلی تھی کہ کچھ کھانے کو مل جائے ۔یہاں یہ مردار چڑیا ملی ہے ۔ مجھے بھائ کی جان بچانی ہے ۔میں یہ چڑیا بھون کر اسے کھلادوں گی ۔اس کا پیٹ بھر جائےگا ۔وہ سو جائےگا ۔ یہ کہہ کر لڑکی پھر رونے لگی ۔
حضرات اب مبارک -رحمت اللہ علیہ - کا دل بھر آیا، لڑکی کے سر پر ہاتھ رکھا، خود بھی رونے لگے۔دیر تک دونوں روتے رہے ۔پھر حضرت نے جیب سے روپیوں کی تھیلی نکالی، اس میں دس ہزار روپے تھے ۔حضرت نے وہ تھیلی لڑکی کو دے دی اور بڑے پیار سے کہا :
""بیٹی ! یہ روپے گھر لے جاؤ ۔ اب تم اور تمہارا بھائ دونوں فاقے سے بچ گئے ۔اللہ کا شکر ادا کرو ۔ اس رقم کو اپنے کام میں لاؤ ۔"" یہ کہہ کر حضرت واپس اپنے گھر کی طرف روانہ ہوئے ۔جب شہر میں پہنچے تو لوگوں نے پوچھا :
""حضرت آپ تو حج کے لئے روانہ ہوئے تھے؟ واپس کیوں آگئے؟ "" حضرت ابن مبارک -رحمت اللہ علیہ - نے فرمایا :
"" اللہ تبارک و تعالٰی نے اس سال ہمارا حج یہیں قبول فرمالیا ۔""
اللہ تعالی ہمیں اور تمام مسلمانوں کو محتاجوں، مسکینوں اور ضرورتمندوں نیز بیماروں کی مدد و تعاون کرنے والا بنائے ۔آمین یا رب العالمین
دعاؤں کا طالب ! شفیع اللہ الندوی
جامعہ اسلامیہ قرآنیہ سمرا مغربی چمپارن بہار - الھند۔
""بیٹی اس مری ہوئے چڑیا کا کیا کروگی؟ ۔""
لڑکی یہ سن کر رونے لگی، پھر بولی :
""چچا جان ¡ہمارے باپ نہیں رہے، ظالم لوگوں نے انہیں مار ڈالا ہے۔ ہمارا سب مال چھین لیا ہے ۔
لڑکی آنسوں پونچھ کر پھر بولی :
""چچا جان ! اب میں ہوں اور میرا بھائ ہے ۔ہمارے پاس کھانے کو کچھ بھی نہیں ۔ کئ وقت کا فاقہ ہے ۔میں باہر نکلی تھی کہ کچھ کھانے کو مل جائے ۔یہاں یہ مردار چڑیا ملی ہے ۔ مجھے بھائ کی جان بچانی ہے ۔میں یہ چڑیا بھون کر اسے کھلادوں گی ۔اس کا پیٹ بھر جائےگا ۔وہ سو جائےگا ۔ یہ کہہ کر لڑکی پھر رونے لگی ۔
حضرات اب مبارک -رحمت اللہ علیہ - کا دل بھر آیا، لڑکی کے سر پر ہاتھ رکھا، خود بھی رونے لگے۔دیر تک دونوں روتے رہے ۔پھر حضرت نے جیب سے روپیوں کی تھیلی نکالی، اس میں دس ہزار روپے تھے ۔حضرت نے وہ تھیلی لڑکی کو دے دی اور بڑے پیار سے کہا :
""بیٹی ! یہ روپے گھر لے جاؤ ۔ اب تم اور تمہارا بھائ دونوں فاقے سے بچ گئے ۔اللہ کا شکر ادا کرو ۔ اس رقم کو اپنے کام میں لاؤ ۔"" یہ کہہ کر حضرت واپس اپنے گھر کی طرف روانہ ہوئے ۔جب شہر میں پہنچے تو لوگوں نے پوچھا :
""حضرت آپ تو حج کے لئے روانہ ہوئے تھے؟ واپس کیوں آگئے؟ "" حضرت ابن مبارک -رحمت اللہ علیہ - نے فرمایا :
"" اللہ تبارک و تعالٰی نے اس سال ہمارا حج یہیں قبول فرمالیا ۔""
اللہ تعالی ہمیں اور تمام مسلمانوں کو محتاجوں، مسکینوں اور ضرورتمندوں نیز بیماروں کی مدد و تعاون کرنے والا بنائے ۔آمین یا رب العالمین
دعاؤں کا طالب ! شفیع اللہ الندوی
جامعہ اسلامیہ قرآنیہ سمرا مغربی چمپارن بہار - الھند۔

آمین ثم آمین
ReplyDeleteاللّٰہ رب العزت آپ کی کاوش کو شرفِ قبولیت بخشے
اللہ ھم سبکو محتاجوں کی مددکرنے والا بنائے ۔آمین
ReplyDeleteآمین یا رب العالمین ۔
ReplyDeleteشکریہ جناب مولانا مفتی رضوان اللہ صاحب اور قاری محفوظ الرحمن صاحب
اللہ تعالی تمام مسلمانوں کو صحیح سمجھ دے
ReplyDelete